صبح کا ناشتہ اور اس کے بچوں پر اثرات

صبح بچوں کو ناشتہ کروانا اور سکول بھیجنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو کہ ماں کے سر پر ڈالی جاتی ہے. بچے صبح ناشتے کے لئے نہیں مانتے اور جلد بازی میں سکول کا رخ کرتے ہیں. لیکن اس بات کا اندازہ ان کی سکول کی کارکردگی دیکھ کر کیا جا سکتا ہے کہ سکول ناشتہ نہ کر کے جانے والے بچے ان بچوں کی نسبت سست روی کا شکار ہوتے ہیں جو صبح سکول ناشتہ کر کے جا تے ہیں
یہ ایک عام بات سمجھی جاتی ہے کہ ناشتہ نہ کرنا معمولی بات ہے لیکن برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ بچے جو بغیر ناشتے کے سکول جاتے ہیں ان کی کارکردگی ان بچوں کی نسبت کم ہوتی ہے جو صبح اچھا ناشتہ کر کے سکول جاتے ہیں. ان کے گریڈز میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے. اور ان کی روزانہ کی جماعت میں پرفارمنس بھی مختلف ہوتی ہے. جو بچے ناشتہ کر کے سکول جاتے ہیں ان کا سارا دن بہت چاک و چوبند رہتا ہے اور وہ ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں
ماہرین نے بتایا کہ اسکول کے وہ طلبہ جو روزانہ ناشتہ کرکے اسکول جاتے ہیں ان کے گریڈ ان بچوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تھے جو کہ ناشتہ کیے بغیر اسکول آتے ہیں. دماغ کو کام کرنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ دماغ غذا سے حاصل کرتا ہے اور اگر دماغ کو متوازن غذا نہیں ملے گی تو وہ بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکے گا
ماہرین کے مطابق جو بچے ناشتہ کرکے آتے ہیں ان کے جسم کو وہ تمام غذائی اجزاء ملتے ہیں جس سے وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہے اور اس سے جلد چیزوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
اس لیے صبح ناشتے کی عادت کو بچوں میں پختہ کرنا چاہیے تاکہ وہ سکول سے لے کر آگے کالج اور یونیورسٹی تک بہتر سے بہترین پرفارمنس دے سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں