کیلاش قبیلے میں نمایاں تبدیلی پر کام شروع

پاکستان کی خوبصورت وادی چترال کی پہچان اور دنیا میں اپنے لباس اور ثقافت کی وجہ سے شہرت رکھنے والے کیلاش قبیلے میں شادی کو قانونی حیثیت دینے پر کام شروع کر دیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق کیلاش قبیلے کے74 قاضیوں کی مشاورت سے پہلی بار کیلاش میرج ایکٹ کے لئے مسودے کی تیاری شروع کر دی گئی جو اگلے سال جنوری تک مکمل کر لیا جائے گا
دو ہزار خاندانوں پر مشتمل دنیا کے قدیم قبیلے میں کیلاش میرج ایکٹ کے نفاذ سے کیلاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شادی، جہیز، طلاق اور وارثت میں حقوق کو قانونی تحفظ مل جائے گا۔

اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے ایک نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وادی کیلاش میں لڑکے اور لڑکی کی پسند سے ہی شادیاں ہوتی ہیں اس حوالے سے کوئی زبردستی نہیں کی جاتی۔
وزیر زادہ کا کہنا تھا کہ کیلاش کی آبادی 4 ہزار کے قریب ہے جن میں 46 فیصد خواتین اور 54 فیصد مرد ہیں، جس طرح ہندو میرج ایکٹ، کرسچن میرج، مسلمانوں کی شادی اور طلاق وغیرہ کے قوانین موجود ہیں، اب کیلاش کمیونٹی کے حقوق کو بھی قانونی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد وہاں کے لوگوں کو انصاف کے حصول میں آسانی ہوگی اس کے علاوہ قبلیوں کے دیگر مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس سے قبل صدیوں سے چترال میں آباد یہ قبیلہ اپنی مضبوط روایات اور ثقافت کے بل بوتے پر زندگی گزار رہا ہے، اس کے برعکس کیلاش قبیلہ کے لیے ایسا کوئی قانون نہیں بنایا گیا کہ جن سے ان کے مسائل کے حل کرنے میں مدد مل سکے۔ قبیلے میں ہونے والی شادیاں کسی سرکاری محکمہ میں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں اس لئے اب تک ان کی شادی اور سے منسلک دیگر امور کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔
کیلاش کی آبادی 4 ہزار کے قریب ہے جن میں 46 فیصد خواتین اور 54 فیصد مرد ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں