پاکستان کا وزیراعظم نواز شریف کی حوالگی کے لیے برطانوی حکومت سے رابطہ

پاکستان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حوالگی کے لیے برطانوی حکومت سے رجوع کر لیا۔ اور ایک خط برطانوی حکومت کے نام لکھ دیا

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان نے نوازشریف کی حوالگی کیلئے برطانیہ کوخط لکھا ہے ، یہ خط برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا کی جانب سے لکھا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کو وطن واپس لانےکیلئے قانونی آپشنز کا استعمال کرتے ہوئے لیگل ٹیم کو “گو سلو پالیسی” ترک کرنےکی ہدایت کی تھی۔

وزیر اعظم نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کو وطن لانے کے لیے حکومت سارےقانونی راستےاختیار کرےگی، نوازشریف کی وطن واپسی کیلئےقانونی اقدامات تیز کئے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو واپس پاکستان 6 ماہ میں آنا تھا، پنجاب حکومت نے ان کی میڈیکل رپورٹ طلب کی تھی لیکن ان کی جانب سے میڈیکل رپورٹ نہیں بھیجی گئی، اب حکومت قانون کے مطابق فیصلے کرے گی، ہم ہر قانونی ذرائع استعمال کر کے نواز شریف کو واپس لائیں گے۔

حکومت کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب ) نے بھی سابق وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کو پاکستان لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کوتوشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری قرار دلوانے اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا پرعمل کے لیے عدالت سے رجوع کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
نوازشریف کی طلبی کے لیے دفتر خارجہ کے ذریعے برطانیہ سے رابطے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو نواز شریف کےمفرور ہونے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ ہوا ۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہوگئی ہے اور وہ مفرور ملزم و مجرم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں