عورت پر ظلم آخر کب تک ؟؟؟

عورت پاکستان میں ہو یا امریکہ میں،بھارتی شہری ہو یا برطانیہ کی رہائشی ، اچھی جمہوریت کی شہری ہو یا بادشاہت مقدر ہو،ظلم کی چکی میں پسنا اس کے نصیب میں لکھا جا چکا ہے۔ اچھی سے اچھی جمہوریت میں بھی خواتین کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑپر وہ کچھ سہنا پڑتا ہے جس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے، دل دہل جاتا ہے۔کووڈ 19کو ہی لیجئے، ڈبلیو ایچ او نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس کے آنے کے بعد سے دنیا بھرمیں ہر تیسری عورت خواہ بیوی ہو یا گھریلو ملازم ، تشدد کا شکار ہوئی۔ تازہ ترین اعداد و شمار میں تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد 35فیصد بنتی ہے۔ جیون ساتھی بھی کم نہیں ، اپنے شوہروں کے تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کا تناسب 70فیصد تک بتایا جا تا ہے۔ انہیں زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پراپنے ہی جیون ساتھی کا ظلم برداشت کرنا پڑتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں اسقاط حمل کے فیصلے بڑھتے جا رہے ہیں،ڈپریشن عام سی بات بن چکی ہے،گھریلوخواتین اور خاص کر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمیں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ متعدد جائزے گواہ ہیں کہ شمالی افریقہ سے لے کر مشرق وسطیٰ تک او رمشرق وسطیٰ سے شمالی امریکہ تک ،کوئی ایک ملک بھی عورت کے لئے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔بھارت تو بالکل بھی محفوظ نہیں۔سب سے بڑی جمہوریت میں سب سے بڑا ظلم جاری ہے۔ جہاں بچے اور بچیاں ماؤں کو اپنے والد کا جبر سہتے ہوئے دیکھتی ہیں مگر چپ رہنے پر مجبور ہیں۔ اور وہ کر بھی کیا سکتی ہیں‌
پنجاب میں رواں سال میں جنوری سے ستمبر تک اغواء کے 7819 کیسز میں سے 3933کیسز منسوخ کر دیئے گئے،1612میں چالان ہوا جبکہ 2211پر کی تفتیش ہی مکمل نہیں ہوئی۔ گنیگ ریپ کی تعداد 111ہے جن میں سے 26منسوخ اور72میں چالان عدالت میں پیش کر دیئے گئے ہیں۔ریپ کے 2043 میں سے 375منسوخ کر دیئے گئے ۔پولیس رپورٹ کے طابق پنجاب بھر میں پولیس نے 50ہزار سے زائد اشتہاریوں اور عدالتی مفروروں کو گرفتارکر لیا ہے ، موٹر وے کیس کا ملزم ضمانت پرتھا لیکن معلوم نہیں کیوں پولیس کی نظروں سے اوجھل رہا۔
پاکستان کا دل لاہور چھلنی ہے ،یہاں خواتین پر تشدد ہی نہیں، دیگر جرائم میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔2018ء میں لاہور میں جرائم کی تعداد 82ہزار تھی جو 2019ء میں بڑھ کر 84ہزار ہو گئی ۔ ریپ کے درج کرائے جانے والے کیسز کی تعداد بھی دو گنا بڑھ گئی ہے ، بہت سے ایسے پرچے بھی ہیں‌ جن میں خواتین نے پولیس سے رجوع نہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔ موٹر وے کیس بھی ان میں سے ایک ہو سکتا تھا کیونکہ یہ مقدمہ بھی خاتون اپنی عزت پر مزید حرف آنے کے خوف سے لڑنا ہی ہیں چاہتی تھیں۔ لہٰذا ریپ کیسز کی اصل تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ صرف لاہور میں اغواء کے 2,650کیسز درج ہوئے ۔پولیس یقینا یہ جواز پیش کرے گی کہ ہم نے پرچوں کے اندراج میں رکاوٹیں ختم کر دی ہیں جو آتا ہے ہم پرچہ درج کر لیتے ہیں ،لیکن ایسا نہیں ہے۔کسی بھی ایف آئی کے اندراج سے پہلے اس کی تفیتش کا عمل موجود ہے اور اس پر عمل بھی ہو رہا ہے، کوئی ایف آئی آر ابتدائی تفتیش کے بغیر درج نہیں ہوتی ۔

ظلم دیکھنے والے بچے بڑے ہوکر ظلم کرنے کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔ہمارا معاشرہ (اور دنیا بھی )آج جس طرف جا رہا ہے اس میں ہمارے بڑوں کا بھی کوئی قصور تو گا جس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ہمارے ہاں برائی کا جائزہ لینے کے حوالے سے کوئی سروے نہیں ہوا ،اس لئے ہم لبنان کی مثال لیتے ہیں، جہاں گھریلو تشد دبعض دوسرے ممالک کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔وہاں بچے اپنی ماؤں کو اپنے باپ کے ہاتھوں پٹتے دیکھتے ہیں ،جس سے ان میں بھی بے حسی جنم لینے لگتی ہے، بعد میں یہی بچے بڑے ہو کر اپنی شریک حیات کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں۔ 2017ء میں دنیا بھر میں(بشمول پاکستان )87ہزار خواتین کو مختلف وجوہات کی بناپر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،جن میں سے 50ہزار (58فیصد) اپنوں ہی کے ظلم کا نشانہ بنیں
دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں روزانہ ہی کتنی خواتین اپنے ہی اہل خانہ کے ہاتھوں قبر میں اتار دی جاتی ہیں ، زندگی ہار جاتی ہیں۔ انسانی سمگلروں کا بڑا نشانہ بھی خواتین ہی ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں بچیوں اور خواتین کی سمگلنگ کا تناسب 72فیصد ہے یعنی سمگل ہونے والے ہر چار میں سے تین لڑکیاں ہیں۔ ہماری معاشرے میں بچیوں کی شادیاں 18سال سے کم عمری میں کر دی جاتی ہیں، کھیلنے کودنے کی عمر میں انہیں کسی کے ’’پلو‘‘ سے باندھ دیا جاتا ہے!ہر دس میں سے چار بچیوں کا یہی مقدر ہے۔وہ 18ویں سالگرہ اپنے پیا کے پتہ نہیں‌ کن حالات میں دیکھتی ہیں
144ممالک میں گھریلو تشدد اور 154ممالک میں ہراسگی کی روک تھام کے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر کم ہی عمل کیا جاتا ہے۔اسی لئے گزشتہ چند برسوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جب ہم نے 2005ء سے 2017ء تک کے مواد کا جائزہ لیا تو پریشان کن بات سامنے آئی۔106ممالک میں سب نے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کی تھی۔ کوئی ملک بھی دوسرے ملک سے پیچھے نہ تھا!کسی ملک میں ہراسگی عام تھی تو کسی ملک میں اغواء یا کم عمری کی شادی۔ کسی ملک میں تشدد زیادہ ہوا تو کسی ملک میں زیادتی۔امریکہ میں 2017ء میں کئے جانے والے ’’ نیشنل یوتھ رسک بی ہیویئر سروے ‘‘ سے معلوم ہوا کہ ہر دس میں سے ایک لڑکی کو کسی نہ کسی طرح ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔آسٹریلیا میں ورک فورس کو زیادہ تعداد میں ہراسگی کاسامنا کرناپڑا تھا۔گزشتہ پانچ برسوں کے اندر اندر دو علاقوں میں کام کرنے 53فیصد خواتین نے ہراسگی کی شکایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں