اگر عدالتی فیصلے کی حمایت کی جائے تو تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران لفظوں کو چباتے ہوئے کہا تھا کہ پاک فوج ملک کا وقار بر قرار رکھنا بھی جانتی ہے اور اپنے ادارے کا وقار بھی ، دشمن کے ڈیزائن میں آکر وہ نہ تو ملک کو نقصان پہنچانے کی طرف جائیں گے نہ ہی ادارے کے وقار پر کوئی سمجھوتہ کریں گے۔
وقار کی تفصیل البتہ نہیں بتائی گئی کہ آیا مارشل لاء لگا کر آئین کو معطل کر دینا ملکی وقار کے حق میں آتا ہے یا نہیں؟ “ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو”

دوسری جانب حکومتی جماعت پی ٹی آئی نے اس معاملے پر جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریفرنس کی بنیاد فیصلے کا وہ حصہ ہو گا جس میں انہوں نے پرویز مشرف کی لاش کو گھسیٹ کر چوک میں لٹکانے کی کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ لہجہ تو یقیناً غیر مناسب ہے، البتہ فیصلے کا بنیادی نکتہ حکومت کیلئے کس اہمیت کا حامل ہے؟ کیا عمران خان جو کہ پرویز مشرف کے اس اقدام کو خود بھی آرٹیکل 6 کے ضمن میں ذکر کرتے رہے ہیں، وہ سنگین غداری کے مجرم کو سزائے موت دینے کیلئے کوئی قدم اٹھائیں گے یا نہیں؟

جسٹس وقار سیٹھ کے تحریر کردہ فیصلے کے پیراگراف نمبر 66 میں جو لب و لہجہ استعمال کیا گیا ہے وہ یقیناً قانون کےمزاج کیساتھ جوڑ نہیں کھاتا، انہوں نے اس پیرا گراف میں تحریر کیا ہے کہ اگر پرویز مشرف پھانسی دیے جانے سے پہلے مر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لایا جائے اور لاش کو تین روز تک چوک پر لٹکایا جائے۔ کیا کسی قانونی فیصلے میں ایسا لب ولہجہ اختیار کیا جا سکتا ہے؟
اور کیا ایک اہم فیصلے میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال اس کی قانونی حیثیت کو مشکوک بنانے کی دانستہ کوشش نہیں ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں