healthy life

احتیاط علاج سے بہتر ہے

بقیہ حصہ پڑھیں
جراثیم سے زیادہ مت گبھرائیں
خود کو ہر وقت جراثیم سے بچانا اور شک کی بنیاد پر بار بار ہاتھ دھونا بھی ایک بیماری ہے. جو آپ کو ہر وقت اس فکر میں ڈالے رکھے کہ کہی آپ کے ہاتھ پاؤں یا جسم گندہ تو نہیں ہو گیا. اور آپ اس کو دھوتےہی رہے. ہر کام سے پہلے اور بعد میں تو ہاتھوں کو صاف رکھنا چاہیے لیکن بلا وجہ بار بار ہاتھ دھونا ٹھیک نہیں.
ڈاکٹر لپمین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’’جدید سائنٹفک ریسرچ بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ کچھ اچھے جراثیم ہوتے ہیں جوکہ صحت مند رہنے اور ہمارے اندر قوت مدافعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ میرے والدین جو مجھے کچھ وقت کیلئے میلا رہنے دیتے تھے وہ مجھے مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔
ہم اگر آج کل کی ماؤں کی بات کریں. جو بچوں کو بلاوجہ روک ٹوک کرتی ہیں کہ وہ کپڑے گندے نہ کریں یا مٹی میں کھیل کر بیمار نہ ہوں. اور بچوں کو ایک آرٹیفیشل ماحول فراہم کرتی ہیں. جو یقیناً ان کی قوت مدافعت کو کمزور کرتا ہے. جس کی وجہ سے وہ جلد بیمار بھی ہوجاتے ہیں. اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے
ماہرین کا یہ خیال ہے کہ جو بچے مٹی میں کھیل کھود کر بڑے ہوتے ہیں وہ زیادہ مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ مٹی میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جوکہ انسانی جسم کو تقویت بخشتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر قسم کا بیکٹریا ہمیں بیمار کرے، اچھے بیکٹریا ہمیں بیماری سے بچانے کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ ٹائم جراثیم سے بھی واسطہ رکھنا چاہیے
جم جانے کا معمول بنائیں
ہمارے ہاں ورزش کرنا یا جم جانا ضروری نہیں سمجھا جاتا حالانکہ یہ ایک بہت مفید اور کارآمد طریقہ ہے خود کو صحت مند اور تندرست رکھنے کا. ورزش لوگ اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہوتا اور جم اس لیے نہیں جاتے کہ اتنے پیسے نہیں ہوتے. یا اگر کوئی جم جانا شروع کرے بھی تو اس وقت جب وزن کم کرنا ہو یا کسی خاص تقریب کے لیے خود کو فٹ کرنا ہو
مگر یہ بات شاید آپ کو پہلے سے معلوم نہ ہوکہ ورزش جسم میں انفیکشنز کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔ جب اس حوالے سے ایک سروے کیا گیا تو ورزش کرنے والے افراد کا موقف یہ تھا کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے کی وجہ سے وہ بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔

کچھ عرصہ بعد تولیہ بدلیں
تولیہ ایک ایسی چیز ہے جس کا استعمال سارا دن میں وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے. وہ چاہے آپ کا کچن کا تولیہ ہو یا باتھ کا. اسے صاف رکھنا بہت ضروری ہے. اور جب وہ خراب ہوجائے تو فوراً اسے تبدیل بھی کریں. گھر کے ہر فرد کا اپنا ذاتی تولیہ ہونا چاہیے جو کوئی دوسرا استعمال نہ کرے
تحقیق سے ثابت ہوا کہ کچن میں رکھے ہاتھ صاف کرنے والے تولیے 89 فیصد بیکٹریا کے حامل ہوتے ہیں جوکہ گھر بھر کے افراد کو بیمار کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ تولیے جب گندے یا زیادہ پرانے ہو جائے تو ان کو تبدیل کر لینا چاہیے تاکہ اس میں موجود جراثیم اور بیکٹریا بیماریوں کا سبب نہ بنے

سبز چائے کا استعمال کریں
سبز چائے کا استعمال سردی ہو یا گرمی ہر موسم میں ضروری ہے. جو کھانا ہضم کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے مدافعتی نظام کو بھی فعال بناتی ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ سبز چائے کے استعمال سے ہم وائرس سے محفوظ رہتے ہیں. سبز چائے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس صحت مند خلیوں میں جاکر انفیکشن کے حملوں سے بچاؤ میں مدد دینے کے ساتھ وائرس کے دورانیے خصوصاً نزلہ زکام اور بخار کو کم کرنے میں بھی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

دوستوں اور عزیزواقارب کے ساتھ ٹائم گزاریں
خوشی کے ساتھ گزرا ہوا وقت آپ کو سارا دن سکون اور تقویت پہنچاتا ہے. اور آپ کے ذہن کو بھی تازہ رکھتا ہے. ہمارا جسم جب مثبت ماحول اور اچھے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے. تو وہ صحت مند اور بیماریوں سے بھی دور رہتا ہے. اور انسانی جسم اور دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے
اس طرح ہم ہنسی خوشی اپنا وقت گزارتے ہیں اور ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہوپاتے۔ نتیجتاً ہم بیماریوں سے بچے رہتے ہیں اور ہماری صحت پر برے اثرات نہیں پڑتے۔ دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کچھ وقت ضرور گزاریں اس سے آپ خود کو تروتازہ محسوس کریں گے۔ ریسرچ کے مطابق معاشرتی زندگی میں اچھے لوگوں سے میل جول آپ کو اچھی خوشگوار اور لمبی زندگی جینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

دہی کا استعمال کریں
دہی صحت مند زندگی گزارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. کیونکہ اس میں ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں. جو صحت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں. دہی آنتوں کو انفیکشن سے بچاتا ہے. دہی کھانے سے سانس کی نالیوں میں پیدا ہونے والے انفیکشن سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے
اس میں موجود وٹامنز، زنک اور منرلز قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ نزلہ زکام سے بھی بچاتے ہیں۔

غرارے کیجئے
ہمارے ہاں غرارے تب کیے جاتے ہیں. جب گلہ خراب ہو یا ڈاکٹر غرارے تجویز کرے. اس کے علاوہ اس کو کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا. لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ غرارے کرنے سے سانس کی نالی میں انفیکشن نہیں ہوتا. اور گلہ بھی صاف رہتا ہے. روزانہ نہیں تو ہفتے میں دو سے تین دفعہ غرارے کرنے سے گلے کو سکون تو ملتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ گلینڈز کو بھی تقویت ملتی ہے

سیب کا سرکہ استعمال کیجئے
سیب کا سرکہ بہت سے معلامات میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ خصوصاً ناک اور گلے کے انفیکشنز کی صورت میں کیونکہ اس میں جراثیم کے خلاف لڑنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم بلغم کو پتلا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک دیسی نسخہ کے طور پر استعمال ہوتا آرہا ہے. اس سرکے کے استعمال سے آپ وزن بھی کم کر سکتے ہیں. اس کا استعمال کریں لیکن اس کا زیادہ استعمال آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے. اس کے علاوہ اسے سلاد پر بھی چھڑکا جا سکتا ہے. لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کے استعمال سے پہلے اپنے طبی معالج سے مشورہ کر لیں

مثبت سوچ رکھیں
اپنی سوچ کو مثبت رکھیں. آپ جو سوچتے ہیں اس کا اثر آپ کے جسم پر ہوتا ہے. مثبت سوچ رکھنے والے اپنی زندگی میں بہت سکون محسوس کرتے ہیں. اور ان کا جسم بھی صحت مند رہتا ہے. منفی سوچ ذہن اور جسم پر برے اثرات مرتب کرتی ہے. جس سے ہم بیمار بھی ہو سکتے ہیں
ہمارے ہاں عموماً خواتین میں یہ مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں کیونکہ منفی انداز فکر اپنا کر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹینشن لیتی ہیں جس کا نتیجہ بیماریوں کی صورت واضح ہوتا ہے۔ یہ بات تحقیق سے واضع ہوچکی ہے کہ مثبت اور منفی انداز فکر انسانی صحت اور عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اوپر دیئے گئے تمام پوائنٹس کو اپنی زندگی میں شامل کریں. اور صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھائے. اور ایک مکمل اور صحت مند زندگی جیئے
پچھلا حصہ پڑھیں
احتیاط علاج سے بہتر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں