نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پر فواد چوہدری اور یاسمین راشد آمنے سامنے

سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کے معاملے پر وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد اور وفاقی وزیر فواد چوہدری آمنے سامنے آگئے۔

رپورٹس کے حوالے سے ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کی100بار انکوائری کرالیں، فواد چوہدری ڈاکٹر نہیں، ان کیلئے رپورٹ کو سمجھنا مشکل ہوگا۔ ایک عام آدمی کیسے میڈیکل رپورٹس کو سمجھ سکتا ہے
جس پر فواد چوہدری نےڈاکٹر یاسمین راشد کو جواب دیا اور کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد گائنا کالوجسٹ ہیں، میرا نہیں خیال نواز شریف کو کوئی ایسا پرابلم تھا جس کا حل گائنا کالوجسٹ کے پاس ہو لہٰذا یاسمین راشد سے بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے فیصلے کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ کابینہ کا فیصلہ تھا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے شیخ رشید نے ہاتھ کھڑے کرکے نواز شریف کو بیرون ملک جانے دینے کے حق میں رائے دی تھی۔

گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں اپنے بیٹے کے ساتھ چہل قدمی کی نئی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس پر حکومت کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔
اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بناکر چلے گئے، انہیں واپس لانا ضروری ہوگیا۔
جب کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس سے متعلق بھی بعض حکومتی وزرا نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تاہم وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس میں جعل سازی کی تردید کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں