کیا اورنج لائن ٹرین اب چلنے کو ہے تیار؟

پنجاب حکومت نے 25 اکتوبر سے اورنج میٹرو ٹرین چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے فیصلے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کردیا ہے اور اس سلسلے میں معاملات کو حتمی شکل دی جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی ماہرین کی طرف سے اورنج ٹرین کے ڈرائیورز اور عملے کی ٹریننگ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق میٹرو اورنج ٹرین کا کرایہ صوبائی کابینہ اور پنجاب اسمبلی طےکرے گی۔ اور ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے افتتاح میں چھ ماہ تاخیرہوئی۔ ورنہ اس کو اب تک چلا دیا جانا تھا

لاہور میں چین کے تعاون سے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر کام کا آغاز 2015 میں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں کیا گیا تھا. اس ٹرین کے 26 میں سے دو اسٹیشنز انڈرگراؤنڈ ہیں۔ اس کا 27.12 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک لاہور ڈیرہ گجراں سے شروع ہو کر علی ٹاؤن اسٹیشن پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرین کا گزر ودھا، اسلام باغ، سلامت پورہ، محمود بوٹی، پاکستان منٹ، شالیمار گارڈنز، باغبان پورہ، یو ای ٹی، لاہور ریلوے سٹیشن، لکشمی چوک، جی پی او، انارکلی، چوبرجی، گلشن راوی، سمن آباد، بند روڈ، صلاح الدین روڈ، شاہ نور، سبزہ زار، اعوان ٹاؤن، واحدت روڈ، ہنجروال، کینال، ٹھوکر نیاز بیگ اور علی ٹاؤن سے ہو گا۔

تقریباً 25 کلومیٹر کا ٹریک زمین کے اوپر اور لکشمی سے چوبرجی تک کا 1.72 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے 27 ٹرینیں چین سے خریدی گئی ہیں جب کہ ایک ٹرین کے پیچھے 5 بوگیاں لگائی جائیں گی۔
5 بوگیوں پر مشتمل ایک ٹرین میں 250 افراد کے بیٹھے کی گنجائش موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اورنج ٹرین میں روزانہ تقریباً ڈھائی لاکھ افراد سفر کر سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں