کراچی: مون سون بارشوں کا 36 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ، شہری پریشان کراچی پانی سے بھر گیا

شہر قائد میں اگست کے مہینے کے دوران مون سون بارشوں کا 36 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اس سے قبل فیصل بیس میں سب سے زیادہ بارش 1984 میں 298.4 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ماہ اگست میں اب تک فیصل بیس میں 345 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق مسرور بیس میں سب سے زیادہ بارش 2007 میں 272 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ رواں ماہ اب تک مسرور بیس میں 228.5 ملی میٹر ریکارڈ ریکارڈ ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ایم او ایس اولڈ ایئرپورٹ میں بارش 1979 میں 262.5 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، رواں ماہ اب تک ایم او ایس اولڈ ایئرپورٹ پر 168.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئیْ
محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ 29 سے 30 اگست کے دوران ایک اور مون سون سسٹم سندھ میں بارش برسا سکتا ہے، بارش کا سبب شمال مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ٹرف(ہوا کا جزوی کم دباؤ) کا دوبارہ سرگرم ہونا ہوگا۔ تاہم کراچی میں نئے سسٹم کے ذریعے بارش کے حوالے سے پیش گوئی قبل از وقت ہے۔
دوسری طرف اگر بات کی جائے بارشوں کی تو شہرقائد سمیت سندھ بھر میں ہونے والی موسلادھار بارش نے نظام زندگی درہم برہم کردیا، کراچی میں سڑکیں تالاب بن گئیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ بیشتر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی جن میں آئی آئی چند ریگر روڈ، صدر، کھارادر، کورنگی، لانڈھی، گلشن حدید، نیو کراچی، نارتھ کراچی، ملیر، ائیرپورٹ اور دیگر علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے، نکاسی آب کا ناقص انتظام ہونے کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے
ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کراسنگ روڈ بند کردیا گیا جبکہ کورنگی کازوے بند پہلے ہی بند کیا جاچکا ہے، گودام چورنگی کا ٹریفک جام صادق پل کی جانب موڑ دیا گیا۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ بلوچ کالونی سے جانے والوں کو قیوم آباد بھیجا جارہا ہے، شہری پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستہ اختیار کریں۔
گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جہاں پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں دب گئیں
سندھ کے مختلف شہروں حیدرآباد، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، ٹھٹھہ اور سجاول پانی میں ڈوب گئے، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
تیزبارش نے حیدرآباد میں پانی بھر دیا . لطیف آباد، قاسم آباد تالاب بن گئے، پانی گھروں میں داخل ہوگیا، کئی علاقے بجلی سے محروم ہوگئے، میرپورخاص میں مسلسل کئی گھنٹے کی بارش سے ہرطرف پانی ہی پانی ہے، سڑکیں دریا کا منظرپیش کرنے لگیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہوگئیں، جس سے علاقہ مکینوں کو شدید اذیت کا سامنا ہے۔
ٹنڈومحمد خان میں طوفانی بارش سے غریبوں کے آشیانے بکھر گئے، ایک مکان کی چھت کرگئی، سول اسپتال میں تین فٹ پانی جمع ہوگیا، ایمرجنسی یونٹ پہلی منزل پر منتقل کرنا پڑا، ٹھٹہ کے شاہی بازار، ناکہ گراؤنڈ اور کچی آبادی میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، سجاول میں تیزبارش سے گلیاں اور سڑکیں پانی سے بھرگئیں۔
نشیبی علاقے زیرآب آگئے، عمرکوٹ میں بھی دھواں داربارش سے نشیبی علاقے اور ہزاروں ایکڑکپاس اور مرچ کی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں، سانگھڑ، دادو اور نوابشاہ میں بھی مون سون بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحآل کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کراچی میں سیلاب متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے، آرمی کی کشتیوں کے ذریعے متاثرہ افراد کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کراچی کے مختلف حصوں میں ریلیف و ریسکیو کا کام جاری ہے
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملیر ندی سے پانی کا باہر بہاؤ روکنے کے لیے کام جاری ہے،آرمی انجینئرزمشینری،ہیوی پلانٹ کے ذریعے ریلیف آپریشن کر رہے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملیر ندی کے متاثرہ کناروں کی ساتھ ساتھ مرمت کی جا رہی ہے،ملیر ندی میں پانی کی مقدار میں کمی ہوئی ہے،قائد آباد سے پانی ملیر ندی میں واپس جانا شروع ہوگیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملیرندی،دُرمحمد گوٹھ، کوہی گوٹھ میں 200 خاندان پھنسے ہیں،200 خاندانوں نے چھتوں پر پناہ لے رکھی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق موسم بہتر ہونے پرمتاثرہ افراد کی ہیلی کاپٹر سے منتقلی شروع ہوگی،چھتوں پر پھنسے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹرمنتقلی کے انتظامات کر لیے گئے۔
اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کراچی اور سندھ میں سیلابی صورتحال پر ریلیف آپریشن تیز کریں، جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچیں لوگوں کی مدد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں