اللہ جسے چاہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے

قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے تو ایسا بھی ہو جاتا ہے جب شیشہ سمجھ کر اٹھائی جانے والی چیز ہیرا بھی نکل سکتی ہے۔ امریکی ریاست آرکنساس میں واقع پارک میں کریٹر آف ڈائمنڈز ایک ایسا مقام ہے جہاں معمولی فیس کی ادائیگی کے بعد سیر کی جا سکتی ہے اور قیمتی پتھر تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
اللہ جسے چاہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے اس کی مثال امریکہ میں ایک ایسے شخص پر صادق آتی ہے جو سیر و تفریح کی غرض سے پارک میں گیا اور واپس آیا تو وہ ہیرے کا مالک بن گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کیون کینرڈ ایک بینک میں کام کرتے ہیں وہ آرکنساس کے جنوب مغربی سمت میں واقع کریٹر آف ڈائمنڈز کی سیر کے لیے پہنچے۔ دس منٹ چلنے کے بعد انہیں کوئی چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی، جو اٹھانے پر شیشے کا ٹکڑا محسوس ہوئی، جس کو انہوں نے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
تھوڑی دیر بعد پارک کی انتظامیہ نے کینرڈ اور ان کے ساتھیوں کو چیکنگ کے لیے روک لیا۔ جو ایک معمول ہے اور ہر جانے والے کو چیک کیا جاتا ہے۔

کینرڈ کا کہنا ہے کہ مجھے چیکنگ کرنا اچھا نہیں لگا کیونکہ مجھے کچھ ملا ہی نہیں تھا۔ بہرحال انہوں نے میرا بیگ بھی دیکھا۔ اور اسی چیز جس کو شیشہ سمجھ کر بیگ میں رکھا گیا تھا، اس کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہیرا ہے۔
پارک کی انتظامیہ نے کینرڈ کو خوش خبری سنائی کہ وہ ہیرے کے مالک بن گئے ہیں۔ مجھے یہ سن کر حیرت کا جھٹکا لگا
کینرڈ کو ملنے والا ہیرا نو اعشاریہ سات قیراط کا ہے جو پارک کی 48 سالہ تاریخ میں دوسرا بڑا ہیرا ہے۔ کینرڈ کی دوست گنجر برٹن جو اس وقت ساتھ تھی، نے فیس بک پر مبارک باد کا پیغام لکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ خبر تین ہفتے تک چھپا کر رکھی۔

پارک کے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ ڈرو ایڈمنڈز کہتے ہیں کہ کینرڈ خوش قسمت ہیں کہ ان کو پارک میں آئیڈیل صورت حال ملی۔
پارک انتظامیہ نے بیس اگست کو اس مقام پر ہل چلایا تھا چند روز قبل ہی وہاں پر بارش بھی ہوئی، تاہم اس روز دھوپ نکلی ہوئی تھی جب کینرڈ پارک میں آئے۔
کینرڈ کو ملنے والا ہیرا اب ان کی ملکیت ہے اور ان کو اس کی اچھی خاصی قیمت ملنے کی امید ہے، اس سال پارک میں246 ہیروں کی رجسٹریشن ہوئی ہے جن کا مجموعی وزن 59.25 قیراط ہے، پچھلے سال ایک سکول ٹیچر نے یہاں سے دو اعشاریہ بارہ قیراط کا ہیرا تلاش کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں