پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں‌بھی کامیاب جلسہ

گوجرانوالا اور کراچی کے بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ پی ڈی ایم کا جلسہ کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں ہوا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جلسہ گاہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جب کہ جلسہ گاہ میں لاپتہ افراد کے خاندانوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جلسہ سے خطاب میں کہنا تھا کہ فرانس اور ڈنمارک نے بڑا جرم کیا ہے، ہم فرانس اور ڈنمارک کوپیغام دیتے ہیں کہ توہین آمیز خاکوں کی سنگین الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، ایسے ناپاک اقدامات فوری طور پر روکے جائیں، جب ایسے ناپاک اقدامات ہوں گے تو یاد رکھو ردعمل بھی آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اورکیپٹن (ر)صفدر کے ساتھ ہونے والے واقعے کی مذمت کرتاہوں، یہ واقعہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے، کہتے ہیں کہ مزار قائد پر نعرے لگائے تھے، یہ تو جرم ہے، اس پر تو کارروائی کی جاتی ہے لیکن جب لاہور کی مسجد میں فلم بندی ہوئی تو آپ کوحرمت نظرنہیں آتی؟
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ جو حشر پشاور کی بی آر ٹی کا ہوا ہے وہی پورے پاکستان کا ہے، اُس وقت بھی کہا تھا ملک مزید ان کے حوالے نہ کرو، مزید معیشت تباہ ہوگی اور انہوں نے پاکستان کی معیشت تباہ و برباد کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار پانے کے عدالتی فیصلے کے بعد آپ کے پاس حکومت میں رہنے کا جواز ہی نہیں ہے، عدالت عظمیٰ کا فیصلہ واضح طور پر اعلان کررہا ہےکہ پی ڈی ایم کا مؤقف درست ہے، اگر کچھ بھی اخلاقی اقدار موجود ہیں تو وزیراعظم اور صدر کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ این آر او ہماری نہیں اب تمہاری ضرورت ہوگی، تم نے انصاف کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیا اور کہا ایک کروڑنوکریاں دوں گا، 1947 سے آج تک نوکریوں کی تعداد ایک کروڑ نہیں ہوئی تو تم ایک کروڑ نوکریاں کیسے دوگے؟ چرسیوں اور بھنگیوں کی حکومت نہیں چاہیے، ہمیں شریفوں کی حکومت چاہیے، میں آپ کی حکومت کا انکار کرتاہوں، پہلے دن سےآپ کی حکومت کوتسلیم نہیں کیا۔

کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے، ووٹ کو پاؤں تلے روندنے کا سلسلہ بند اور کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا کوئی حق نہیں ہے، راتوں رات باپ یا ماں کے نام سے پارٹی بنتی ہے اور ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور اگلے دن وہی بچہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اس حال میں ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہےکہ آپ کے ووٹ کو عزت نہیں ملی، اگر ہم نے آج اس سلسلے کو بند نہ کیا تو آزادی اور وجود خطرے میں پڑجائے گا۔
لیگی نائب صدر نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مقدمہ بھی جلسہ عام میں رکھا اور کہا کہ یہاں سے نوجوانوں کو اٹھایا جاتا ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، اسٹیج پر ایک بچی سے ملی جس کے تین جوان بھائیوں کو گھروں سے اٹھالیا گیا اور اب ان کا کچھ پتہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے جیل میں ڈالا، میرے والد کو قید کیا، میری والدہ کا انتقال ہوا لیکن میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئے مگر اس بچی کی داستان سن کر میرے آنکھ میں آنسو آئے، خدا کے قہر کو آواز نہ دو اور ہوش کے ناخن لو، اپنے لوگوں سے سوتیلے پن کا سلوک نہ کرو۔

کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سےگلگت سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہاکہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم سے پیچھے نہیں ہٹے گی، ہم آگے دو قدم بڑھ سکتے ہیں لیکن پیچھے ہٹنے والے نہیں۔
بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھاکہ عوام کوئٹہ، کراچی یا گوجرانوالہ کے ہوں، عوام اپنی آزادی اور جمہوریت چاہتے ہیں، عوام اپنی زمین اور وسائل کا مالک ہونے کی آزادی چاہتے ہیں، عوام بولنے اور سانس لینے کی اجازت چاہتے ہیں،یہ کس قسم کی آزادی ہے نا عوام آزاد، نا سیاست آزاد۔
ان کاکہنا تھاکہ ملک کی ساری جمہوری جماعتیں نہ صرف اسٹیج پر ہیں بلکہ ایک پیج پر ہیں، باقی سب کوبھی اب اس پیج پر آناپڑےگا ورنہ سب کو گھر جانا پڑے گا۔
انہوں نےکہا کہ عمران خان سندھ پولیس کو اپنی ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش رہے تھے، میں سیلوٹ کرتا ہوں سندھ پولیس کو جو ٹائیگر فورس نہیں بنی، عمران خان چاہ رہے ہیں کہ ہماری ایجنسیوں کو بھی ٹائیگر فورس میں تبدیل کردیں، پیپلزپارٹی اور جیالے ملک کے اداروں کو تباہ نہیں کرنے اور ٹائیگر فورس میں تبدیل نہیں کرنے دیں گے، کوئی پاکستانی عمران خان کو یہ اجازت نہیں دےگا۔ مزید تفصیلات

اس کے علاوہ پی ڈی ایم کے جلسے سے سابق وزیراعظم پرویز اشرف، اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا اور اپنے تقاریر میں وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب اپوزیشن کے جلسے کے موقع پر کوئٹہ میں ایک روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی جب کہ اس دوران موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بند رہی۔

جلسے کے موقع پر شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جلسے کے لیے 5000 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ جلسہ گاہ کی ڈرونز کی مدد سے بھی نگرانی کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں