سوال وجواب احادیث کی روشنی میں

مفتی منیب الرحمٰن
سوال:رمضان المبارک کی آمد ہے ،اگر کسی کا مدافعتی نظام کمزور ہے اور روزہ رکھنے کی وجہ سے کورونا کے حملے کا خطرہ ہے ،ایسے شخص کے لیے روزے کا کیاحکم ہوگا؟ اسی طرح طبیب جو کہ مریضوں میں رہتاہے ،دیر تک بھوکا رہنے کی وجہ سے اس کا مدافعتی نظام بھی متاثر ہوگا اور مریضوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے اس پر وائرس کا حملہ جلدی ہوسکتاہے ،ایسے طبیب کے لیے کیا حکم ہے؟
عبدالحفیظ ،جنوبی افریقا

جواب:کورونا ایک عالمی وبا ہے ، جس نے بہت قلیل وقت میں تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور نتائج بڑی تعداد میں ہلاکت اور پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کی صورت میں سامنے آئے ہیں ۔ماہرین جو حفاظتی تدابیر بتارہے ہیں ، اُن کے مطابق ایسے لوگ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے ، اُن پر حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا لازم ہے ۔

ہماری رائے میں ایسے حالات میں جب کسی شخص کے لیے بیماری کے مہلک بن جانے یا روزے دار کی جان تلف ہونے کا ظَنِّ غالب ہوجائے تو روزہ توڑنے یا چھوڑنے کی شرعی رخصت پر عمل واجب سمجھا جائے،کیونکہ اس کی تائید میں احادیثِ مبارَکہ بھی موجود ہیں اور ائمۂ مجتہدین اور فقہائے امت کے اقوال بھی موجود ہیں ۔ روزہ توڑنے کی صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے

(۱)حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اللہ نے تمہارے لیے جو رخصت دی ہے ، اُس رخصت پر عمل کرنا تم پر واجب ہے،(صحیح مسلم:1115 )‘‘۔(۲)حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو قبول نہیں کیا ، اُسے میدانِ عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوگا۔(مسند احمد بن حنبل: 5392)(۳)حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ بے شک، اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی معصیت کو ناپسند فرماتا ہے ،اسی طرح اپنی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنے کوپسند فرماتاہے،(مسند احمد بن حنبل: 5866)‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی ؒ تنویر الابصار مع الدرالمختار کی شرح میں لکھتے ہیں :’’ اگرروزہ رکھنے کی صورت میں ہلاکت کا اندیشہ ہو،تو روزہ توڑنا واجب ہے ، (حاشیہ ابن عابدین شامی ،جلد6،ص:356، دمشق)‘‘۔علامہ علاؤالدین ابوبکر کاسانی حنفیؒ لکھتے ہیں:’’امام ابوحنیفہؒ سے روایت ہے :اور(عذر کی بناءپر) روزے کو توڑنے کی مُطلق اباحت بلکہ وجوب اُس صورت میں ہے کہ روزے دار کی ہلاکت کا اندیشہ ہو،کیونکہ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے،اللہ کے حق کو قائم رکھنے کے لیے نہیں جوکہ واجب ہے،اس حالت میں روزے کا وجوب باقی نہیں رہتااوریہ حرام ہے،تو ایسی صورت میں روزہ توڑنا مباح بلکہ واجب ہوگا ، (بدائع الصنائع،جلدثانی ،ص: 142 )‘‘۔علامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابوبکر المرغینانی حنفی لکھتے ہیں:’’اورہم کہتے ہیں: بیماری کی زیادتی اوراس کا لمبا ہونا کبھی ہلاکت کا سبب بنتا ہے، تواس سے بچنا واجب ہے،(ہدایہ،جلدثانی،ص:119)‘‘۔

ڈاکٹر وھبہ الزحیلیؒ لکھتے ہیں : ’’ اور اگر روزے کے سبب ہلاکت کا غالب گمان ہویا شدید تکلیف جیسے کسی حس کا معطل ہونے کا گمان ہو تو اس صورت میںروزہ توڑنا واجب ہے‘‘۔وہ مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’بیماری کی حالت میں روزہ توڑنے کے بارے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں: حنفیہ اور شافعیہ کا قول ہے :ایسی صورت میں روزہ توڑنا مباح ہے، حنابلہ نے کہا: ایسی صورت میں روزہ توڑنا سنت ہے اور رکھنا مکروہ ہے اور مالکیہ نے کہا: اگر بیماری یا ضعف کے سبب روزہ رکھنے کی صورت میں ہلاکت کا اندیشہ ہو، تو روزہ توڑنا واجب ہے،(الفقہ الاسلامی وادلتہ ،جلد: 3، ص:1698-99 ، دارالفکر )‘‘۔

فتح مکہ کے سفر کے موقع پر بعض صحابۂ کرامؓ نے عذرِ سفر کی بناءپر روزہ نہ رکھا ،جب مکہ کے قریب ’’مرُّ الظہران ‘‘ کے مقام پر آپ ﷺ نے پڑاؤ ڈالا تو جن صحابۂ کرامؓ نے رخصتِ شرعی پر عمل کرتے ہوئے روزہ نہیں رکھا تھا ،وہ چاق وچوبند تھے اور کام کاج میں لگ گئے اور جن صحابۂ کرامؓ نے عزیمت پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا ،وہ نڈھال ہوگئے ،اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:’’آج روزہ نہ رکھنے والے اجر کمانے میں سبقت لے گئے ،(صحیح بخاری:2890)‘‘۔آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’’ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ،(صحیح بخاری: 1946) ‘‘ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں