پشاورکے مدرسہ میں دھماکا ،7 بچے شہید ، 96 زخمی

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مدرسے میں دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد شہید جب کہ 96 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے زخمیوں میں زیادہ ترتعداد بچوں کی ہے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں دھماکے جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے مطابق دیر کالونی مدرسے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد شہید جب کہ زخمیوں کی تعداد 70 سے زائد ہے۔ترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر جھلسے ہوئے ہیں جس میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دھماکا ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جب کہ دھماکا خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا، واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے میں 4 سے 5 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں متعدد افراد کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ موجود تھا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کلچر شوکت یوسفزئی نے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مذہب سے تعلق نہیں ہے۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علاقے میں کافی عرصے سے امن تھا اور سیکورٹی بھی بہتر تھی، کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی تھریٹ الرٹ تھا، تھریٹ الرٹ کے بعد سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کی ہے، دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے سافٹ ٹارگٹ دیکھتے ہیں اور بچے اور مدرسے سافٹ ٹارگٹ تھے۔
صوبائی وزیر برائے کلچر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی صورتحال پر اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں