پشاورمدرسہ میں‌ دھماکے کے بعد دینی تعلیم کا سلسلہ عارضی طور پر معطل

پشاور میں دھماکے کا نشانہ بننے والی مسجد میں دینی تعلیم کا سلسلہ کچھ عرصے کے لیے روک کر طلبہ کو اُن کے آبائی علاقوں میں بھیج دیاگیا ہے۔
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور 137 زخمی ہوئے۔
پشاور کے اسپتال میں دھماکے کے 6 زخمی اب بھی زیر علاج ہیں، لیڈی ریڈنگ اسپتال کے 5 زخمی برن یونٹ جب کہ ایک آرتھوپیڈک میں زیر علاج ہیں۔

مدرسے میں دھماکے کے چند گھنٹوں بعد ہی مسجد میں صفائی کرنے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی گئی تاہم اب مسجد میں دینی تعلیم کا سلسلہ روک کر وہاں زیر تعلیم طلبہ کو کچھ عرصے کے لیے ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

مدرسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد ومدرسے کی سکیورٹی کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے اور مشاورت کے بعد درس و تدریس کا عمل دوبارہ شروع کیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں:‌ پشاورکے مدرسہ میں دھماکا ،7 بچے شہید ، 96 زخمی

دوسری جانب دیرکالونی دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا، دھماکے کی تحقیقات جاری ہے، تحقیقاتی ٹیم نے مدرسے میں زیرتعلیم ایک طالبعلم کو حراست میں لے لیا ہے۔
مقدمہ تھانہ اغہ میر جانی کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج ہوا، جس میں قتل،اقدام قتل،دہشت گردی،دھماکا خیزمواد کی دفعات شامل کی گئیں۔
مسجد انتظامیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مساجد و مدارس کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے جبکہ پولیس نے شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر نگرانی مزید سخت کردی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ مدرسے میں زیر تعلیم ایک طابعلم کو حراست میں لے لیا ہے ، جس سے تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر طلبا کا ریکارڈ ، کوائف کی جانچ پڑتال بھی کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں