کیا کورونا ایک انسان کو دو دفعہ متاثر کر سکتا ہے ؟

کیا کورونا وائرس ایک انسان کو دو بار متاثر کر سکتا ہے ؟
سائنسدان ابھی اس حؤالے سے کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں‌کہہ سکتے ، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس کے امکانات نہیں ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں ان میں دوبارہ وائرس سے متاثر ہونے کے خلاف مدافعت موجود ہوتی ہے لیکن سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ یہ کتنا عرصہ تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق متعدد ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے کے چند ہفتوں بعد بہت سے لوگوں کے ٹیسٹ دوبارہ مثبت آئے ہیں جس سے شبہ ہے کہ انہیں دوبارہ کورونا وائرس ہوا ہے۔
ماہرین نے امکانات ظاہر کیے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے ٹیسٹ (فالس پازیٹیو) آئے ہوں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریضوں میں دوبارہ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دوسروں تک وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق کوئی دستاویزی مثال نہیں ملی۔
اسی طرح کے وائرس سے متعلق متعدد مطالعوں میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ لوگ جو وائرس سے پہلی بار متاثر ہوئے ہیں وہ سال کے اندر اندر دوبارہ وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن کورونا وائرس کے حوالے سےابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

بوسٹن کالج میں عالمی صحت عامہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فلپ لینڈر گین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی ایک امریکی تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈیز بیماری میں مبتلا افراد میں چند ماہ رہ سکتی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان حساس ہوجاتا ہے۔
لیکن کسی وائرس کے خلاف صرف اینٹی باڈیز مزاحمت نہیں ہیں بلکہ مدافعتی نظام نظام کے دیگر حصے بھی اس حفاظت میں اس میں مدد کرتے ہیں۔ اس لیے اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ کیا وائرس سے دوبارہ متاثر ہونا ممکن ہے یا نہیں۔

اگر لوگ وائرس سے دوبارہ متاثر ہوتے ہیں تو قوت مدافعت پیدا ہونے کے بعد بھی دوبارہ کام کی جگہوں پر واپسی کا آئیڈیا زندہ نہیں رہ سکے گا۔ اور یہ طویل عرصے تک کارگر ویکسین کے حصول کی امید کیلئے اچھا شگون نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں