بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا جس کے بعد رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 84 ہوگئی۔
اس سلسلے میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 14 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، متاثرہ بچی کا تعلق مستونگ کی یوسی کاریزٹو سے ہے۔
ترجمان وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیسٹ کے لیے متاثرہ بچی کے سیمپل 6 دسمبر کو بھجوائے گئے تھے، بچی کے والدین پولیو ویکسین پلانے سے انکاری تھے۔ اور انہوں نے بچی کو قطرے نہیں پلائے تھے
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخوا میں 22، 22 کیسز سامنے آئے جبکہ پنجاب میں 14 بچوں کو پولیو نے متاثر کیا ہے۔
گزشتہ دنوں بھی بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں 16 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی مرض ہے جو پولیو وائرس سے ہوتا ہے اور 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر فالج اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔مپولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
متعدد مرتبہ ویکسینیشن سے لاکھوں بچے پولیو سے محفوظ ہوچکے ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے، دنیا میں اب صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان ہیں، جہاں اس بیماری کے کیسز اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے انسداد پولیو کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان بہت جلد پولیو فری ملک بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں